ایٹمی جنگ سے پناہ مانگو
جنگ کیا ہے ۔
جنگ جس میں انتہائی تشدد ۔جارحیت۔ تباہی اور موت کا اشارہ ہے ۔
جنگ کے نتائج
دوسری عالمی
جنگ میں جاپان کے مقامات ہروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بم حملوں میں زندہ بچنے
والوں نے پاکستان اور بھارت سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ کی راہ سے پیچھے ہٹ جائیں۔
ہروشیما اور ناگاساکی کے یہ متاثرین جاپان میں ’ہیباکوشا‘ کہلاتے ہیں۔ ان کو خدشہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت کو ایٹمی جنگ کی تباہی اور عذاب کا اندازہ ہی نہیں ہے اور ان کی تنظیم ٹوکیو میں ان دونوں ممالک کے سفارتخانوں کو احتجاجی خطوط بھیجنا چاہتی ہے۔
ہروشیما اور ناگاساکی کے یہ متاثرین جاپان میں ’ہیباکوشا‘ کہلاتے ہیں۔ ان کو خدشہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت کو ایٹمی جنگ کی تباہی اور عذاب کا اندازہ ہی نہیں ہے اور ان کی تنظیم ٹوکیو میں ان دونوں ممالک کے سفارتخانوں کو احتجاجی خطوط بھیجنا چاہتی ہے۔
ایٹمی حملوں کے ان متاثرین میں پچھتر سالہ منورو یوشیکانے شامل ہیں جو چھ اگست انیس سو پینتالیس میں ہروشیما میں موجود تھے۔ اس حملے میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور بہت برسوں تک اس حملے کے ماحول اور انسانی صحت پر منفی اثرات رہے۔ مسٹر یوشیکانے کہتے ہیں کہ آج کل لوگوں کو اندازہ نہیں رہا کہ ایٹمی حملے کے اثرات کتنے ہیبتناک ہوتے ہیں۔ بقول ان کے ’ میں نے اس حملے کے بعد سینکڑوں افراد کو دیکھا تھا جو بم کی گرمی سے جھلس گئے تھے، ان کی جِلد میرے سامنے پگھل رہی تھی۔اب ہم پر لازم ہے کہ ہم بھارت اور پاکستان کو بتائیں کہ اگر انہوں نے ایٹمی جنگ شروع کر دی تو یہ دنیا دوزخ بن جائے گی‘۔
شہر ہروشیما کے میئر نے بھی پاکستان اور بھارت سےایک پیغام میں کہا ہے کہ ایٹمی حملے کے بڑے خوفناک نتائج ہو سکتے ہیں، اور اس سے دونوں ممالک کے شہری اور قدرتی ماحول بہت بری طرح متاثر ہونگے اور یہ انسانیت کی تباہی کی طرف ایک خطرناک قدم ہوگا۔
سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ بھارت اور پاکستان نے جن
جوہری
ہتھیاروں کو تیار کر رکھا ہے وہ ہروشیما پر گرنے والے بم کے برابر ہیں۔ لیکن ان
سائنسدانوں کے مطابق کیونکہ دونوں ممالک کی شہری آبادی ہروشیما سے کہیں زیادہ بھی
ہے اور شہر پر ہجوم بھی زیادہ ہیں اگر یہ بم استعمال کیے گئے تو ہروشیما سے بہت
زیادہ جانی نقصان ہوگا۔
امریکہ میں پرنسٹن یونیورسٹی کے ایک محقق ڈاکٹر ایم وی رامانا کہتے ہیں کہ اگر اس نوعیت کا بم بمبئی جیسے شہر پر گرایا گیا تو تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ افراد مارے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ اس تباہی کے بعد بہت سے دوسرے ممالک بھی ایٹمی قوت حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔
امریکہ میں پرنسٹن یونیورسٹی کے ایک محقق ڈاکٹر ایم وی رامانا کہتے ہیں کہ اگر اس نوعیت کا بم بمبئی جیسے شہر پر گرایا گیا تو تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ افراد مارے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ اس تباہی کے بعد بہت سے دوسرے ممالک بھی ایٹمی قوت حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔
جنگ میں تشدد اور جاحیت اور موت
میری پاکستانی اور انڈیا نوجوان نسل سے اپیل ہے
کہ وہ سوشل میڈیا پر اس بحث سے پرہیز
کریں۔ ان
کی پوسٹ اور کمنٹس اس آگ کو ہوا دے
رہے ہیں
اور سوائے ایک دوسرے میں نفرت کے
سواکچھ
اور شاید ان کو اس بات کا اندازہ نہیں
کہ ان کی
پوسٹ جنگ کا رخ لے لی گی۔
اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف اپنے گریبان میں
جھانک کر دیکھیں کہ وہ اپنے ملک کے لیےکیا بیج
بو رہے ہیں ۔
کیونکہ جنگ 2 لیڈروں یا دوگروپوں کے درمیان لڑی
کا نام نہیں
تو میری تمام ہندو مسلم اور آل ورلڈ سے اپیل ہے
کہ انسانیت کی قدر کی جائے ۔
اگر آپ کسی کے ساتھ اچھائی نہیں کر سکتے تو برا بھی مت کریں
ہر مسلئے کر حل ہوتا ہے اگر اس پر بیٹھ کر بات کی جائے ۔







Post a Comment